Cloud NEWS RefleX
aws tutorials free free aws cloudy study guides and notes
Monday, July 13, 2020
Thursday, October 10, 2019
بجلی کی کھپت میں کمی پر حکومت کا سارا دن یکساں نرخ پر بجلی دینے کا منصوبہ
بجلی کی کھپت میں کمی پر حکومت کا سارا دن یکساں نرخ پر بجلی دینے کا منصوبہ
آج سے چند برس قبل تک پاکستانی عوام بجلی کی عدم دستیابی اور لوڈ شیڈنگ کا رونا روتے سڑکوں پر مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ کرتے دکھائی دیتے تھے تو آج مہنگی بجلی کے نرخوں کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔
گیس، پیٹرول اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں عوام کو پریشان کر رکھا ہے وہیں اب عوام نے گیس اور بجلی کا استعمال کم کر دیا ہے۔
اس بات کا اعتراف وزارت توانائی کے حکام نے حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ صارفین کی جانب سے پیک آورز یعنی شام پانچ بجے سے لے کر رات 11 بجے تک بجلی کا استعمال کم ہو گیا ہے جس کے باعث حکومت کو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کے واجبات ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس لیے حکومت موسم سرما کے لیے عوام کو بجلی کے استعمال کرنے پر حوصلہ افزائی کے لیے سستا فلیٹ ریٹ یعنی یکساں قیمت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وفاقی سیکرٹری توانائی عرفان علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت موسم سرما میں صارفین کے لیے سستے نرخ پر بجلی کا یکساں ریٹ متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جس پر کام کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں صارفین کو سستی ریٹ پر بجلی دی جائے گی تاکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت سے پڑنے والے بوجھ پر قابو پایا جا سکے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی وہ اس کی قیمت سمیت مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ اس سکیم کے مسودے پر کام جاری ہے۔
ف پیک اور آن پیک ریٹ کیا ہے؟
ملک میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت کا تعین صارفین کے زیر استعمال بجلی کے میٹرز کے تحت کیا جاتا ہے۔
ملک میں دو طرح کے بجلی کے میٹرز زیر استعمال ہیں۔ ایک پرانے میٹر جنھیں نان ٹائم آف یوز میٹرز کہا جاتا ہے اور دوسرے ٹائم آف یوز ڈیجیٹل میٹرز۔
نان ٹائم آف یوز میٹرز وہ پرانے میٹرز ہیں جو پہلے سابقہ واپڈا کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے صارفین کو لگائے گیے تھے اور ان پر بجلی کے ریٹ سلیب کے مطابق متعین کیے جاتے ہیں۔
جبکہ ٹائم آف یوز ڈیجیٹل میٹرز وہ نئے میٹرز ہیں جن پر دن کے بجلی کے فی یونٹ کی قیمت اوقات کار کے تحت متعین کی جاتی ہے۔ جن پر دن کی اوقات میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت مخلتف جبکہ شام کے اوقات میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت مختلف ہوتی ہیں۔
ان کو پیک ریٹ اور آف پیک ریٹ کہا جاتا ہے۔ نیپرا حکام کے مطابق اب گزشتہ چند برسوں سے صارفین کو نئے ٹائم آف یوز میٹرز ہی لگائے جاتے ہیں۔
اس فیصلے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟
وفاقی سیکرٹری توانائی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو جمع کروائے گئے جواب کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار تقریباً 35000 میگا واٹ ہے جبکہ موسم سرما میں بعض اوقات بجلی کی کھپت کم ہوکر 5000 میگا واٹ تک گر جاتی ہے۔
ایسے میں حکومت پر بجلی بنانے والی کمپینوں کی پیداواری لاگت کا بوجھ بڑھے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ان کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گردشی قرضہ 1200 ارب روپے ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
ماہر توانائی شاہد ستار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس فیصلے کی ایک وجہ تو صارفین کی جانب سے بجلی کے کم استعمال کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت ادا کرنے کے لیے صارفین پر اضافی بوجھ آئے گا اور انھیں اس بجلی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی جو انھوں نے استعمال نہیں کی۔
دوسرا اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہمارے ملک میں اس وقت بجلی کے فی یونٹ کی پیک ریٹ قیمت 22 روپے سے 28 روپے تک ہے۔ تو اس ریٹ پر بجلی کیوں خریدے یا استعمال کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا ملک جہاں بجلی کی پیداوار میں کمی ہو وہاں پیک ریٹ کا اطلاق سمجھ میں آتا ہے لیکن جہاں پر اضافی بجلی پیدا ہو وہاں پر پیک آور ٹیرف یا ٹائم آف یوز ٹیرف کا فائدہ نہیں ہوتا۔
شاہد ستار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس بجلی تو اضافی ہے لیکن اس کی ترسیل کا نظام مناسب نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کبھی 22000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی ترسیل نہیں کر سکی۔
بجلی کی کھپت میں کمی کیوں آئی؟
وفاقی سیکرٹری توانائی کے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اپنائے گئے موقف کے مطابق موسم سرما میں گھریلو صارفین زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات مثلاً ایئرکنڈیشنر اور فریج کا استعمال کم کر دیتے ہیں اس لیے بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے۔
جبکہ ماہر توانائی شاہد ستار کا کہنا ہے کہ جس قیمت پر ہمیں بجلی کا فی یونٹ دیا جا رہا ہے وہ تو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کے مطابق ہے۔ ہمیں ملنے والی بجلی کے قیمت عوام کی قوت خرید سے مسابقت نہیں رکھتی۔ ہماری عوام کی ماہانہ آمدن ترقی یافتہ ممالک سے 30، 40 فیصد کم ہیں لیکن ہم بجلی کی قیمت ان سے زیادہ ادا کر رہے ہیں۔
’صارفین کی آمدن کا 40 فیصد حصہ تو بلوں میں نکل جاتا ہے‘
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے جو دو بڑے پلانٹ لگائے گئے ہیں اگر ان کے ٹیرف یعنی فی قیمت بجلی کا جائزہ کیا جائے تو اس کی قیمت نو سینٹ متعین کی گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں ساڑھے پانچ سینٹ ٹیرف تھا۔ تو مہنگی بجلی کو کون استعمال کرے گا جب اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
شاہد ستار کے مطابق کھپت میں کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی کی پیداوار کر لی ہے اور طلب اور رسد کا جو فرق تھا وہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ملک میں غیر استعمال شدہ بجلی کی پیداوار زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت، عوام اور انڈسٹری اس بجلی ٹیرف کی متحمل نہیں ہو سکتی جو ہمارے پر لاگو ہے۔
ماہر توانائی امتیاز قزلباش بھی شاہد ستار سے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیل اور کوئلہ سے حاصل کی جانے والی بجلی بہت مہنگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جس ملک کے پاس آبی وسائل موجود ہوں اور وہ سستی پن بجلی حاصل کرنے کی بجائے صرف چند افراد کے کمیشن کے چکر میں مہنگی تیل اور کوئلے سے بنی بجلی حاصل کرتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹAFPبجلی کے فی یونٹ کی قیمت کیا ہے؟
نیپرا حکام کے مطابق گھریلو صارفین جو نان ٹائم آف یوز میٹر کے ذریعے بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے ملک میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت تقریباً سات روپے سے 21 روپے کے درمیان ہے۔ جبکہ فی یونٹ کی اوسط قیمت تقریباً 13 روپے ہے۔
جبکہ ٹائم آف یوز میٹرز کے آن پیک ریٹ کے مطابق فی یونٹ کی قیمت 23 روپے 70 پیسے اور آف پیک ریٹ میں فی یونٹ کی قیمت 17 روپے 60 پیسے مقرر ہے۔
حکومت نے گذشتہ برس سے اب تک بیس یونٹ پرائس یعنی یونٹ کی بنیادی قیمت میں تقریباً پانچ روپے اضافہ کیا ہے۔ جبکہ فیول ایڈجسمنٹ کے مد میں حاصل کی جانے والی قیمت اس کے علاوہ ہے جو ہر ماہ تبدیل ہوتی ہے۔
تاہم نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ ٹائم آف یوز میٹرز کے فی یونٹ کی قیمت پورے ملک میں یکساں ہوتی ہے۔ جبکہ نان ٹائم آف یوز میٹرز کے فی یونٹ کی قیمت سلیب ریٹ کے مطابق طے کی جاتی ہے اور ہر سابقہ واپڈا ڈسٹریبیوشن کمپنی (ڈسکوز) نیپرا کے بنیادی یونٹ کی قیمت پر اپنی اپنی قیمت کا تعین کرتی ہے۔
اس قیمت کا تعین ان کمپینوں کی کارکردگی جن میں لائن لاسز، بجلی چوری پر قابو پانا، بلوں کی ریکوری سمیت نئے کنکشن کی کھپت کے عوامل کے ساتھ ساتھ ٹائم آف یوز میٹرز صارفین کو دی جانے والی فی یونٹ کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
واضح رہے ملک میں سابقہ واپڈا ڈسٹریبیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) دس ہیں جنھیں ریجن کی لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(فیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) شامل ہیں۔
ای بائیکس: شکل اور ڈیزائن روایتی مگر انجن پیٹرول کی جگہ الیکٹرک
موٹرسائیکل کو پاکستان میں متوسط طبقے کی سواری سمجھا جاتا ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تو پاکستانی عوام کے ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ آئندہ ماہ پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہو گا اور یہ مہنگائی ان کے بجٹ کو کیسے متاثر کرے گی۔
پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے مختلف کمپنیوں نے بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلیں متعارف کروائیں لیکن ان میں سے اکثر درآمد شدہ تھیں اور وہ مہنگی ہونے کی بنا پر عوام میں مقبول نہ ہو سکیں۔
تاہم اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں دو اداروں نے باہمی اشتراک سے پاکستان میں برقی
موٹرسائیکلوں کی تیاری کا عمل شروع کیا ہے
ان موٹرسائیکلوں کو مارکیٹ میں پہلے سے مقبول جاپانی ڈیزائن کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے یعنی ان کی شکل اور ڈیزائن تو عام موٹرسائیکلوں جیسا ہی ہے، بس پٹرول انجن کی جگہ ان میں الیکٹرک انجن لگایا گیا ہے۔
یار کردہ الیکٹرک بائیک کی رینج 70 کلومیٹر تک ہے اور اسے گھر یا دفتر میں پانچ گھنٹے میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس موٹرسائیکل کی قیمت فی الحال 88 ہزار روپے رکھی گئی ہے تاہم اسے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پٹرول بائیک بھی الیکٹرک بائیک بن سکتی ہے؟
کسی نے اپنی بائیک میں (الیکٹرک) کٹ فِٹ کرانی ہے تو ہمارے پاس اس کا بھی حل موجود ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے ادارے نے جو الیکٹرک کٹ تیار کی وہ پاکستانی بازار میں موجود جاپانی ڈیزائن والی موٹر سائیکل کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے اس لیے عام موٹرسائیکل میں بھی اس کی تنصیب ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے خواہشمند افراد قسطوں پر بھی اپنی موجودہ پٹرول سے چلنے والی موٹرسائیکل کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
’اگر آپ اپنی موٹرسائیکل میں الیکٹرک کٹ لگوانا چاہتے ہیں تو اس کی ماہانہ قسط 5500 روپے ہو گی جو ایک سال تک چلے گی
’گرین ٹیکنالوجی انفرادی بچت اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک تو اس میں دھواں نہیں ہے، آلودگی اس میں ہے ہی نہیں اور دوسرا شور بھی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عام (پٹرول بائیک) اگر 50 کلومیٹر ایوریج دیتی ہے تو اس کا ماہانہ خرچہ تقریباً چار ہزار آئے گا لیکن الیکٹرک بائیک کا خرچہ صرف 500 روپے آئے گا۔‘
Wednesday, October 2, 2019
AWS- 5 Five Pillars
-
AWS Well-Architected Framework – Five Pillars
1. Operational Excellence
- The ability to run and monitor systems to deliver business value and to continually improve supporting processes and procedures.
- There are three best practice areas and tools for operational excellence in the cloud:
- Prepare – AWS Config
- Operate – Amazon CloudWatch
- Evolve – Amazon Elasticsearch Service
- Key AWS service:
- AWS CloudFormation for creating templates. (See AWS Management Tools Cheat Sheet)
2. Security
- The ability to protect information, systems, and assets while delivering business value through risk assessments and mitigation strategies.
- There are five best practice areas and tools for security in the cloud:
- Identity and Access Management – IAM, Multi-Factor Authentication, AWS Organizations
- Detective Controls – AWS CloudTrail, AWS Config, Amazon GuardDuty
- Infrastructure Protection – Amazon VPC, Amazon CloudFront with AWS Shield, AWS WAF
- Data Protection – ELB, Amazon Elastic Block Store (Amazon EBS), Amazon S3, and Amazon Relational Database Service (Amazon RDS) encryption, Amazon Macie, AWS Key Management Service (AWS KMS)
- Incident Response – IAM, Amazon CloudWatch Events
- Key AWS service:
- AWS Identity and Access Management (IAM)
3. Reliability
- The ability of a system to recover from infrastructure or service disruptions, dynamically acquire computing resources to meet demand, and mitigate disruptions such as misconfigurations or transient network issues.
- There are three best practice areas and tools for reliability in the cloud:
- Foundations – IAM, Amazon VPC, AWS Trusted Advisor, AWS Shield
- Change Management – AWS CloudTrail, AWS Config, Auto Scaling, Amazon CloudWatch
- Failure Management – AWS CloudFormation, Amazon S3, AWS KMS, Amazon Glacier
- Key AWS service:
- Amazon CloudWatch

4. Performance Efficiency
- The ability to use computing resources efficiently to meet system requirements, and to maintain that efficiency as demand changes and technologies evolve.
- There are four best practice areas for performance efficiency in the cloud:
- Selection – Auto Scaling for Compute, Amazon EBS and S3 for Storage, Amazon RDS and DynamoDB for Database, Route53, VPC, and AWS Direct Connect for Network
- Review – AWS Blog and What’s New section of the website
- Monitoring – Amazon CloudWatch
- Tradeoffs – Amazon Elasticache, Amazon CloudFront, AWS Snowball, Amazon RDS read replicas.
- Key AWS service:
- Amazon CloudWatch
5. Cost Optimization
- The ability to avoid or eliminate unneeded cost or suboptimal resources.
- There are four best practice areas and tools for cost optimization in the cloud:
- Cost-Effective Resources – Cost Explorer, Amazon CloudWatch and Trusted Advisor, Amazon Aurora for RDS, AWS Direct Connect with Amazon CloudFront
- Matching supply and demand – Auto Scaling
- Expenditure Awareness – AWS Cost Explorer, AWS Budgets
- Optimizing Over Time – AWS News Blog and the What’s New section on the AWS website, AWS Trusted Advisor
- Key AWS service:
- Cost Explorer
AWS Pricing
AWS Pricing
There are three fundamental drivers of cost with AWS:
- Compute
- Storage
- Outbound data transfer.
- AWS offers pay-as-you-go for pricing.

- For certain services like Amazon EC2 and Amazon RDS, you can invest in reserved capacity. With Reserved Instances, you can save up to 75% over equivalent on-demand capacity. When you buy Reserved Instances, the larger the upfront payment, the greater the discount.
- With the All Upfront option, you pay for the entire Reserved Instance term with one upfront payment. This option provides you with the largest discount compared to On-Demand instance pricing.
- With the Partial Upfront option, you make a low upfront payment and are then charged a discounted hourly rate for the instance for the duration of the Reserved Instance term.
- The No Upfront option does not require any upfront payment and provides a discounted hourly rate for the duration of the term.
- There are also volume based discounts for services such as Amazon S3.
- For new accounts, AWS Free Tier is available.
- Free Tier offers limited usage of AWS products at no charge for 12 months since the account was created. More details at https://aws.amazon.com/free/.
- You can estimate your monthly AWS bill using AWS Simple Monthly Calculator.
- The AWS TCO calculator
- gives you the option to evaluate the savings from using AWS
- compares costs and savings against on-premises and co-location environments
- matches your current infrastructure to the most cost effective AWS offering
Sources:
https://d1.awsstatic.com/whitepapers/aws_pricing_overview.pdf\
https://aws.amazon.com/pricing/
https://aws.amazon.com/ec2/pricing/reserved-instances/pricing/
https://d1.awsstatic.com/whitepapers/aws_pricing_overview.pdf\
https://aws.amazon.com/pricing/
https://aws.amazon.com/ec2/pricing/reserved-instances/pricing/
Monday, September 3, 2018
Subscribe to:
Posts (Atom)
